نئی دہلی،29/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) مودی حکومت نے کارپوریٹ گھرانوں سے سیاسی چندہ لینے کے لیے بنے قانون کو نہ صرف بدلا بلکہ متنازعہ الیکٹورل بانڈ سے چندہ لینے کا قانون بغیر پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کی اجازت سے پاس کرا دیا گیا۔ یہ سنسنی خیز انکشاف ہفنگٹن پوسٹ انڈیا نے کیا ہے۔ ہفنگٹن پوسٹ نے آر ٹی آئی سے ملے جواب کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وزارت قانون نے الیکٹورل بانڈ منصوبہ کو لے کر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے ’غیر قانونی اور غیر آئینی‘ کہا تھا۔ اتنا ہی نہیں، ہفنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے کارپوریٹ گھرانوں کو سیاست میں خاموشی سے پیسہ لگانے کی چھوٹ دے دی اور ساتھ ہی ایسے معاملوں میں ہونے والی میٹنگوں کی تفصیلی رپورٹ یعنی منٹس آف دی میٹنگ رکھنے کی سپریم کورٹ کے ذریعہ طے ضابطہ کو بھی ختم کر دیا تاکہ پیسے کے لین دین کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔
رپورٹ میں اس قانون کے لیے راجیہ سبھا کو نظر انداز کرنے کے لیے اس وقت کے وزیر مالیات ارون جیٹلی پر انگلی اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’(جیٹلی نے) راجیہ سبھا کو نظر انداز کرنے کے لیے اس بل کو منی بل کے طور پر پیش کیا۔ آئین کی دفعہ 110 کے مطابق منی بل کو راجیہ سبھا سے منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔‘‘ دھیان رہے کہ الیکٹورل بانڈ منصوبہ ارون جیٹلی نے ہی اپنی مدت کار میں شروع کیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت نے کمپنی ایکٹ کے ایک اہم ضابطہ کو ختم کر اس متنازعہ قانون کو پاس کیا ہے۔ اس ضابطہ کے تحت یہ انتظام تھا کہ صرف منافع کمانے والی کمپنیاں ہی کسی سیاسی پارٹی کو چندہ دے سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس ضابطہ کے مطابق کسی بھی کمپنی کے ذریعہ سیاسی پارٹی کو چندہ دینے کی حد طے تھی اور اسے یہ بھی بتانا ہوتا تھا کہ اس نے کس پارٹی کو چندہ دیا ہے۔ لیکن اس ضابطہ کو ختم کرنے کے بعد کوئی بھی کمپنی غیر محدود چندہ دے سکتی ہے اور اسے کسی کو بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ اس نے کس کو چندہ دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وزارت قانون نے حکومت سے گزارش کی تھی کہ اس انتظام کو عام طور پر نہ استعمال کیا جائے، لیکن حکومت نے اسے نظر انداز کر دیا۔ ہفنگٹن پوسٹ اس سے پہلے بھی رپورٹ دے چکا ہے کہ کس طرح مودی حکومت نے آر بی آئی اور الیکشن کمیشن کے اعتراضات کو کوڑے دان میں ڈال دیا تھا۔